حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،تاراگڑھ، اجمیر/ حجۃ الاسلام و المسلمین سید نقی مہدی زیدی نے تاراگڑھ اجمیر، راجستھان میں نمازِ جمعہ کے خطبہ میں تقوائے الٰہی کی تاکید کرتے ہوئے امام حسن عسکری علیہ السلام کے وصیت نامے کی شرح و تفسیر کے سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے عفو و درگزر کی اہمیت بیان کی اور کہا کہ اسلام نے انسانی معاشرے میں محبت، اصلاح اور باہمی تعلقات کے استحکام کے لیے معاف کرنے اور درگزر سے کام لینے کی خصوصی تاکید کی ہے۔
انہوں نے قرآن کریم کی سورۂ بقرہ کی آیت «وَأَن تَعْفُوا أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ» کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دوسروں کو معاف کرنا تقویٰ سے زیادہ قریب ہے۔ اسی طرح سورۂ نور کی آیت «وَلْیَعْفُوا وَلْیَصْفَحُوا أَلَا تُحِبُّونَ أَن یَغْفِرَ اللّٰهُ لَكُمْ» کے ذریعے عفو و صفح کی ترغیب دی گئی ہے کہ انسان دوسروں کی خطاؤں سے درگزر کرے؛ کیا وہ یہ پسند نہیں کرتا کہ اللہ تعالیٰ اسے معاف فرمائے۔
مولانا سید نقی مہدی زیدی نے عفو اور صفح کے مفہوم کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ عفو سے مراد یہ ہے کہ انسان کسی شخص کے ایسے حقِ مواخذہ یا سزا سے درگزر کرے جس کا وہ مستحق ہو، جبکہ صفح کا مفہوم دل سے خطا کو معاف کرکے اسے نظرانداز کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ «عفو» اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں بھی شامل ہے۔
انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث «ارْحَمُوا مَنْ فِي الْأَرْضِ يَرْحَمْكُمْ مَنْ فِي السَّمَاءِ» کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جو لوگ زمین والوں پر رحم کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرماتا ہے۔
امام جمعہ تاراگڑھ نے سورۂ آل عمران میں متقین کی صفات بیان کرتے ہوئے آیت «وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ وَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ» کی تلاوت کی اور کہا کہ اہل تقویٰ وہ ہیں جو غصے پر قابو رکھتے اور لوگوں کی خطاؤں سے درگزر کرتے ہیں، جبکہ اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔
انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول روایت بیان کرتے ہوئے کہا کہ جب انسان کو غصہ آئے تو اسے عفو کے ذریعے دور کرنا چاہیے، کیونکہ قیامت کے دن ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے خصوصی اجر ملے گا جو دوسروں کو معاف کرنے والے ہوں گے۔ اسی طرح ایک اور روایت میں عفو و درگزر کو انسان کی عزت میں اضافے کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔
مولانا نقی مہدی زیدی نے حضرت امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کی امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کو کی گئی وصیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بعض مواقع پر اچھے طریقے سے معاف کر دینا سزا دینے سے زیادہ مؤثر ہوتا ہے۔ انہوں نے امام جعفر صادق علیہ السلام کی روایت بھی بیان کی کہ دنیا و آخرت کی بزرگیوں میں سے ایک یہ ہے کہ انسان اپنے اوپر ظلم کرنے والے کو معاف کرے، قطع تعلق کرنے والے سے تعلق قائم کرے اور جہالت سے پیش آنے والے کے مقابلے میں بردباری اختیار کرے۔
انہوں نے امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی مناجات «إِلَهِي أُفَكِّرُ فِي عَفْوِكَ فَتَهُونُ عَلَيَّ خَطِيئَتِي...» کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بندے کو اللہ تعالیٰ کی عفو و بخشش اور اس کی گرفت، دونوں کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔ اسی طرح نہج البلاغہ میں حضرت علی علیہ السلام کے کلمات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ بندوں کے چھوٹے بڑے، ظاہر و پوشیدہ اعمال کا حساب لے گا؛ اگر عذاب فرمائے تو یہ بندوں کے اعمال کا نتیجہ ہوگا اور اگر معاف فرمائے تو یہ اس کے کرم کا مظہر ہے۔
خطیب جمعہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ایک اعرابی کے درمیان پیش آنے والے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب اعرابی نے قیامت کے دن حساب لینے والے کے بارے میں سوال کیا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ حساب لے گا، تو اس نے اللہ کی رحمت اور کرم پر اعتماد کا اظہار کیا۔ اس واقعے سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ قدرت رکھنے کے باوجود اپنے بندوں کو معاف فرمانے والا ہے۔
مولانا نقی مہدی زیدی نے امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام اور ایک شامی شخص کے معروف واقعے کو بھی عفو و حلم کی عملی مثال قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک شامی شخص نے امام حسن علیہ السلام کے سامنے سخت کلمات کہے، لیکن امام نے جواب میں سختی کے بجائے انتہائی شفقت اور محبت کا مظاہرہ کیا۔ آپ علیہ السلام نے اسے اپنی ضروریات بیان کرنے اور مدد طلب کرنے کی دعوت دی۔ امام حسن علیہ السلام کے اس کریمانہ برتاؤ سے شامی شخص متاثر ہوا اور اپنی سابقہ روش پر نادم ہوگیا۔
انہوں نے کہا کہ عفو و درگزر محض ایک اخلاقی خوبی نہیں بلکہ اسلامی تربیت اور تقویٰ کا عملی مظہر ہے۔ انسان اگر غصے کے وقت اپنے نفس پر قابو پاتے ہوئے دوسروں کی خطاؤں کو معاف کرے اور اصلاح و خیرخواہی کا راستہ اختیار کرے تو اس سے نہ صرف فرد کی اخلاقی تربیت ہوتی ہے بلکہ معاشرے میں بھی محبت، اعتماد اور باہمی تعلقات مضبوط ہوتے ہیں۔









آپ کا تبصرہ